اپنی آواز کیسے اٹھائی جائے

ہمارے ضابطہ اخلاق کا ایک لازمی جزو ہے کہ ہم ـ‘‘آواز اٹھانا جانتے ہیں ’’۔ہم اپنے منیجرز اور کمپلائنس فنکشن سے ہمیشہ تب سوال کرتے ہیں جب ہمیں شبہ ہو کہ سب ہمارے اخلاقی معیارات اور کوڈ سے مطابقت رکھتا ہے ۔اور ہم ہمیشہ ان تمام عوامل کو رپورٹ کرتے ہیں جو ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارے ضابطہ اخلاق اور قوانین سے مطابقت نہیں رکھتے۔رپورٹ کرنے سے ہم ٹیلی نار کو قابل اطلاق قوانین کے مطابق چلانے کے قریب لے جاتے ہیں ۔یہ وہ ذمہ داری ہے جو ٹیلی نار کے ملازمین ہونے کے ناطے ہم پر عائد ہوتی ہے ۔

کبھی کبھی سامنے آکے اپنے اعتراضات اٹھانا ہمت کی بات ہوتی ہے ۔اگر آپ کبھی منیجرز یا کمپلائنس فنکشن کے ساتھ بات کرنے میں سہولت محسوس نہیں کرتے تو آپ انٹگریٹی ہاٹ لائن پر رجوع کرسکتے ہیں جو تمام ملازمین اور سٹیک ہولڈرز کیلئے ہر وقت دستیاب ہے ۔انٹگریٹی ہاٹ لائن کو قائم کرنے کامقصد یہ ہے کہ اعتراض اٹھانے والے اور جس پر اعتراض اٹھایا جارہا ہے دونوں کی رازداری کو برقرار رکھا جائے اور یہ تمام آپریشن ایک مخصوص آزاد ٹیم کی جانب سے چلایا جارہا ہے ۔تمام رپورٹس رازدارانہ طریقے سے محفوظ کی جاتی ہیں اورنہایت ہی احتیاط کے ساتھ صرف مخصوص وہ لوگ جن کو خصوصی اقدار حاصل ہوصرف ان کو استعمال کرنے کی اجازت دی جاتی ہے ۔ یہ چینل ہمیشہ دستیاب ہے اور زیادہ تر مقامی زبانوں میں دستیاب ہے ۔آپ نامعلوم رہ سکتے ہیں ۔آپ کی شناخت تب تک راز رہے گی جب تک آپ چاہیں گے ۔

تمام اعتراضات کو سنجیدگی سے لیا جاتا ہے اور اس کی شفاف پیروی بھی کی جاتی ہے ۔سب سے پہلے رپورٹس کو وصول کیا جاتا ہے پھر جی آئے اے (گروپ انٹرنل آڈٹ)کی جانب سے اس کا مکمل تسلی بخش جائزہ لیا جاتا ہے ۔سنجیدہ نوعیت کے معاملات پر جی آئی اے معاملے کی تفتیش کرتا ہے تاکہ متعلق حقائق کو واضح کیا جاسکے۔باقی کیسز کو ان کی نوعیت اوراقسام کی بناء پر مختلف مقرر کردہ بزنس یونٹس کے آزاد فنکشن کی طرف منتقل کردئیے جاتے ہیں ۔تمام عوامل میں معلومات کو مکمل رازداری سے رکھنا بہت ضروری ہے تاکہ پورے عمل کی نیک نامی پر کوئی سوال نہ اٹھاسکے ۔

کمپلائنس پروگرام کا ایک بڑا حصہ درستگی کے معاملات کو دیکھ رہا ہے جس میں ملازمین کا درست رویہ شامل ہے ۔کمپلائنس فنکشن مینجمنٹ کو سپورٹ کرتا ہے کہ تفتیش شدہ اعتراضات اور درستگی کے عوامل کی ضرورت ہے یا نہیں ۔کوئی بھی شخص جو کسی قانون،ضابطہ اخلاق ،ٹیلی نار پالیسی یا مینوئل کی خلاف ورزی کرتا ہے اس کو نوکری سے فارغ ہونے تک کے نتائج کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔ا س طرح کی برطرفیاں ٹیلی نار کو کمرشلی نقصان پہنچا سکتی ہیں ،ایک انفرادی طور پر بھی خلاف ورزی کرنے والا سزا،نقصانات،اور قید تک کے معاملات سے بھی دو چار ہوسکتا ہے ۔

یہ بہت ضروری ہے کہ ہم جان لیں کہ ہمیں کسی بھی غیر اخلاقی اور غیر قانونی معاملے کو بغیر کسی خوف کے رپورٹ کرنا ہے ۔ٹیلی نار سچ اور صحیح بولنے والوں کے خلاف کوئی رد عمل برداشت نہیں کرسکتا۔